نئی دہلی4نومبر ( آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) سردی کے موسم میں گزشتہ چند دنوں سے مہاراشٹر کی سیاست کا درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے۔ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی اتحادی شیوسینا مسلسل حکومت اور اس کی پالیسیوں کی تنقید کر رہی ہے ۔ ایسے میں دو روز قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی تو سیاسی پارا مزید چڑھ گیا۔ اس ملاقات سے این ڈی اے کے مستقبل پر بھی سوال اٹھانے شروع کر دیئے گئے ہیں ۔ اس ہائی پروفائل ملاقات پر اب شیوسینا کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے ۔
شیوسینا نے اپنے ترجمان ’’سامنا ‘‘میں ملاقات پر جواب دیتے ایک بار پھر بی جے پی پر حملہ کیا ہے ۔سامنا میں ’جی ہاں، ممتا سے ملا‘ عنوان کے ساتھ لکھا ہے، ہاں ! ہم نے ممتا بنرجی سے ملاقات کی. ہماری ملاقات سے اگر کسی کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوئی تو یہ ان کا قصور ہے۔ ممتا واجپئی کے وقت میں این ڈی اے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں؛ لیکن وہ حکومت میں بھی تھیں ۔سامنا میں وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سامنا میں آگے لکھا ہے کہ دو سال پہلے افغانستان سے واپس ہوتے ہوئے وزیر اعظم مودی پاکستان چلے گئے ۔نواز شریف سے معانقہ بھی کیا اور ان کے ساتھ چائے پر بھی بات کی ۔ پاکستان جیسے کٹر دشمن ملک کے سربراہ سے اس طرح اچانک ملاقات کی وجہ کیا تھی؟ اس ملاقات کی وجہ سے دشمنی اس چائے کے کپ میں پگھل گئی ہو ایسا بھی نہیں ہوا۔اس کے ساتھ ہی سامنا میں مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کو شکست دینے کے ممتا بنرجی کی جم کر تعریف کی گئی ہے۔ سامنا میں لکھا ہے کہ ممتا بنرجی نے بغیر وی ایم خریدے ہی بائیں بازو کو شکست دی۔ اس کے علاوہ کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ساتھ متحدہ سرکار بنانے پر بھی بی جے پی کو نشانے پر لیا گیا ۔